حضرت سیدنا عثمان غنی

خلیفہ سوئم حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ

ابن عفان رضی اللہ تعالی عنہ ان کا لقب ذوالنورین اور کنیت آپ کی ابو عمر عبد اللہ اور ابو لیلیٰ ہے آپ عام الفیل کے چھ سال بعد پیدا ہوئے سے ہیں جنہیں حضرت صدیق اکبر نے اسلام کی دعوت کی آپ نے دو ہجرتیں کیں پہلی حبشہ کی طرف اور دوسری بھتیجے کی طرف حضرت رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نبوت سے پہلے آپ کا نکاح ہوگیا غزوہ بدر میں حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہو گی

ا اور انہیں تیمارداری کے باعث حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے آپ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو صحت عطا فرمائے اور اجر دیا اسی لئے آپ بدلیوں میں شمار ہوتے ہیں اس وقت جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح کی خبر مدینہ منورہ پہنچے اس وقت سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالی عنہ کو لوگوں نے دفن کیا تھا اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم سے آپ کا نکاح فرمادیا اور وہ 9 ہجری میں فوت ہوئیں غلام علی لکھتے ہیں کہ

آپ کے سوا اور ایسا شخص نہیں ہے جس نے پیغمبر کی دو لڑکیوں سے نکاح کیا اور اسی لئے آپ کو ذوالنورین کیوں کہتے ہیں آپ سابقین اولین مہاجرین اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور ان کی شخصیتوں میں سے ہیں جن سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نعت شریف خوش رہے نیز آپ ان صحابہ سے شمار ہوتے ہیں بلکہ ابن عباس کہتے ہیں کہ خلفاء سے قرآن اپنے اور ماموں نہیں جمع کیا ہے

ابن سعد کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات مدینہ منورہ میں آپ ہی کو خلیفہ مقرر آپ سے 146 حدیثیں مروی ہیں اور زید بن خالد جہنی اور حضرت ابن زبیر صاحب بن زید بن حارث بن مالک رضی اللہ عنہ تعالی عنہ اور ابراہیم بھی آپ سے روایت کرتے ہیں ابن سعد عبد الرحمن بن حاطب سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی صحابی کو نہیں دیکھا کہ وہ ایسی خوش اسلوبی اور پورے طور سے حدیث بیان کرتا ہوں جیسا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کیا کرتے تھے

حضرت محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ مناسک حج کو حضرت عثمان سے زیادہ جاننے والا اور کوئی بھی نہیں ہے حضرت عمر کے بعد بعد امام بہقی اپنی سنن میں حضرت عبداللہ بن عمر بن عاص روایت کرتے ہیں کہ ایک دن میرے ماموں حسین جعفی نے کہا کیا معلوم ہے کہ حضرت عثمان کو ذوالنورین کیوں کہتے ہیں میں نے کہا مجھے تو معلوم نہیں تو انہوں نے کہا کہ آدم علیہ السلام سے لے کر اس وقت تک حضرت عثمان کے سوا کسی شخص کے نکاح میں پیغمبر کی دو بیٹے نہیں آئی اسی لئے انہیں کہتے ہیں

ابو نعیم حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالی عنہ اس لیے کہتے ہیں کہ آپ کے سوا ہمیں کوئی ایسا شخص معلوم نہیں جس کے گھر پہ قبر کی دو بیٹیاں ہوں ہو حسن افضال صاحب ہمیں اور روایت کرتے ہیں سے حضرت عثمان غنی کے بارے میں پوچھا گیا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ان کو ضرور اس لیے کہتے ہیں کہ ان کے نکاح میں رسول اللہ کی دو صاحبزادیاں آئی ہیں ابن عساکر کی تاریخ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بیان خود کیے تھے اور چھوٹے اور لمبے نہایت خوبصورت تھے رنگ سرخ آم کا ماحول گورا تھا چہرے پر چیچک کے داغ تھے

داڑھی گری تھی جوڑ بڑے بڑے اور سینا فراک تھا یا گوشت سے پر تھی بازو نبی تھے اور ان پر بال تھے سر کے بال کنگرالی آگے آگے تھے اور مجھے بھی بہت خوبصورت تھے آپ کی کنپٹیوں کے بال کانوں کے نیچے لٹکتے تھے آپ کے دادا ان کو سونے کی تار سے باندھا ہوا تھا آپ نے ابن عساکر عبدااللہ بن عباس رضی سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان غنی سے بڑھ کر کسی مرد عورت کو خوبصورت نہیں دیکھا ابن عساکر اسامہ بن زید سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے ایک بڑا پیالہ گوشت سے بھرا ہوا دے کر دشمنی کے گھر بھیجا

جب میں گھر میں نہیں بیٹھی تھی بس میں کبھی رکھ دیا اور کبھی نظر جب واپس آیا تو رسول اللہ نے فرمایا تم دونوں کے پاس گئے تھے میں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ آپ نے فرمایا تم نے کبھی ان سے زیادہ خوبصورت میاں بیوی دیکھے ہیں میں نے عرض کی یارسول اللہ میں نے ان سے زیادہ حسین میاں بیوی آج آج تک کبھی نہیں دیکھیابن حارث رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے

کہ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ اسلام لائے تو آپ کے چچا حاکم بن ابو العاص بن امیہ نے آپ کو پکڑ کر مضبوط رسی سے جکڑ دیا اور کہا کہ کیا تم اپنے آبائی دین سے پھر ان کی طرف جاتے ہو بخدا میں تمہیں اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک تم سے اس سے ہرگز نہیں دور جاؤں گا جب حکم نے آپ کا یہ استدلال دیکھا تو آپ کو چھوڑ دیا

حضرت ابو یعلی بیان کرتے ہیں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ مسلمانوں سے پہلے پہل جس نے اپنے اہل و عیال کو ساٹھ لے کر ہجرت کی وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہی بے شک حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ حضرت لوط علیہ صلاۃ و سلام کے بعد پہلے ایسے شخص ہیں

جنہوں نے اپنے اہل کو ساتھ لے کر ہجرت کی اب نہ دی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی وسلم نے اپنی صاحبزادی ام کلثوم کا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ سے عقد کر دیا تو نے انہیں فرمایا تیرا خاوند تیرے دا دے ابراہیم علیہ السلام اور تیرے باپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مشابہ ہے

  1. حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعات
  2. حضرت علی کے بیعت خلافت اور ان کے عہد خلافت میں پیش آنے والے واقعات
  3. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ
  4. حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت و کردار

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *