حضرت عمر

خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ

امیر المومنین ابو حفص بنشی عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ عمر 27 سال مشرف بہ اسلام ہوئے امام ذہبی اور امام نووی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر عمر فیل کے تیرہ سال بعد پیدا ہوئے آپ اشرف قریش میں سے تھے زمانے جاہلیت میں سفارت آپ ہی کے متعلق تھی جب قریش کے اپنے درمیان یا ان کے اور دوسروں کے درمیان لڑائی ہوتی تو وہ حضرت عمر کو ہی سفیر بنا کر بھیجا کرتے تھے

اور جب کبھی تفاخر نسب کے اظہار کی بات ہوتی تو بھی آپ ہی کو روانہ کیا جاتا آپ چالیس مردوں اور گیارہ اور وسلم سے آپ نے نے 539 احادیث روایت کی ہے

آپ سے عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے عبد اللہ بن عباس حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عمر بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ حضرت موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ وغیرہ نے روایت کرتے ہیں

اب آپ کے حالات کے منصف بطور خلاصہ چند ایک فصل میں بیان بیان کیا جائے گا ابن ابی ابی شیبہ جابر سے روایت ہے کہ کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے اسلام کی طرف مائل ہونے کا باعث اس طرح ہے کہ جیسے انھوں نے خود بیان فرمایا ہے کہ ایک رات میری ہمشیرہ کو درد زہ شروع ہوا تو میں اپنے گھر سے نکل کر کعبہ کے پردوں میں داخل ہوا تھوڑی دیر بعد آقائے نامدار فخر موجودات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور خانہ کعبہ کی مغربی جانب سے داخل ہوئے آپ پر ریشم کی ایک موٹی سی چادر تھی آپ نے نماز پڑھی

اس میں ایسے کلمات پڑھے جنہیں میں نے کبھی نہیں سنا تھا پھر آپ باہر تشریف لائے تو میں آپ کے پیچھے چل پڑا آپ نے پیچھے مڑ کر فرمایا کون ہے میں نے عرض کی عمر نے فرمایا اے عمر تم رات دن کسی وقت میرا پیچھا چھوڑ کے بھی ہو یا نہیں حضرت عمر کہتے ہیں کہ میں آپ کی بد دعا سے ڈر گیا اور میں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تبارک و تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے آپ نے فرمایا میں عمر اس کو پوشیدہ رکھ میں نے عرض کی خدا کی قسم ہے جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے

میں تو اسے ظاہر کروں گا جیسے کہ شرک سے ظاہر کیا جاتا ہے ہے اسی طرح ابن سعد حاکم اور امام بہیقی دلائل النبوہ میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ تلوار گلے میں ڈالے ہوئے گھر سے نکلے راستے میں بنی زہرہ کا ایک شخص آپ کو ملا اور کہا اے عمر کہاں جا رہے ہو ہو حضرت عمر نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے جا رہا ہوں

اس نے کہا ان کو قتل کرنے کی بعد میں سوچنا پہلے تم جا کر اپنے گھر میں اپنی بہن اور اپنے بہنوئی کی خبر لو سنا ہے کہ وہ اس انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب بات سنیں اپنے بہنوئی اور بہن کے پاس آئے اس وقت ان کے پاس بیٹھے واجد عمر کی آواز سنتے ہی چھپ گئے حضرت عمر نے آ کر کہا یہ گن گن آواز کیسی ہے ہے اس وقت ان کی بہن سورۃ واقعہ پڑھ رہی تھی ان دونوں نے کہا کچھ نہیں ہم صرف باتیں کر رہے تھے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ میں نے سنا ہے

کہ تم اپنا دین ترک کر دیا ہے اس پر بہنوئی نے کہا اے عمر اگر حق دوسرے دن میں ہی ہوں پھر کیا کریں یہ سن کر حضرت عمر اس پر ہماری اور انہیں بری طرح زدوکوب کیا اور جب آپ کی بہن اپنے خاوند کی حمایت کے لیے آگے بڑھیں تو حضرت عمر نے انہیں ایسا تھپڑ رسید کیا جس سے ان کا چہرہ لہو لہان ہو گیا نا آپ کی بہن اس سے بہت خفا ہوۓ اور کہاں ہو ہمیں مارتا ہے اگرچہ حق تمہارے دین کے سوا اور دین میں ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی لائق ہے عبادت نہیں ہے

اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالی کے کے بندے اور اس کے رسول ہیں حضرت عمر نے کہا اچھا وہ کتاب تو مجھے دکھاؤ جس سے تم پڑھ رہے تھے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ تھے آپ کی بہن نے کہا کہ تم نہ ہو اور صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو پاک ہو اس لئے جاؤ یا غسل کرلو اس پر حضرت عمر نے اٹھ کر وضو کیا اور پھر کتاب کو دیکھا تو پڑھنا شروع کیا جب وہ آیت پر آگے پہنچے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ بے شک میں وہی ہوں اللہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کا اور میری یاد کے لئے نماز قائم کر پر پہنچے

تو آپ نے کہا مجھے بتاؤ جب جناب حضور پاک صلی اللہ وسلم حضرت عمر کی یہ بات سنی تو وہ جھٹ نکل آئے اور کہا لائے اس دروازے پر حضرت امیر حمزہ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور کئی لوگ تھے حضرت حمزہ نے کہا یا عمر آرہا ہے اگر خدا کو اس کی بہتری منظور ہوئی تو اسلام لے آئیں گے اور ہم آسانی سے انہیں قتل کر دیں گے اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف فرما تھے آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی جب حضرت عمر حضرت واقعہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر سے باہر نکل کر

حضرت عمر کو ان کے کپڑوں اور تلوار سمیت پکڑو پکڑو فرمایا اے عمر تم اس وقت تک باز نہیں آؤ گے جب خدا تعالی تم پر ولید بن مغیرۃ بھائی اور عذاب نازل نہیں کرے گا اگر نہیں یہ سن کر دیتا ہوں اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے رسول ہے میں یہ گواہی دیتا ہوں جو حضرت عمر اور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی کی پرورش پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے حضرت ابن سعد سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے دریافت کیا کہ عمر کا لقب فاروق کس نے رکھا آپ نے فرمایا

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کا لقب جو ہے وہ فاروق رکھا تھا ابن ماجہ اور امام حاکم ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر مشرف بہ اسلام ہوئے تو علیہ السلام نازل ہوئے اور عرض کیا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اہل آسمان جو ہے حضرت عمر کے مشرف بہ اسلام ہونے کی مبارکباد دیتے ہیں آپ کو مبارک ہو کہ عمر نے اسلام لایا ہے

  1. حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعات
  2. حضرت علی کے بیعت خلافت اور ان کے عہد خلافت میں پیش آنے والے واقعات
  3. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ
  4. حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت و کردار

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *