حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ا دست مبارک حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کسی ریشم یا اور کوئی چیز آپ کے قدم مبارک سے زیادہ نرم نہیں دیکھی نرم نہیں پائی اور نہ کسی خوشبو کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کی خوشبو سے بڑھ کر پایا کیا اور جس سے آپ مصافحہ کرتے تو وہ دن بھر اپنے ہاتھ میں خوشبو پاتا جس بچے کے سر پر آپ اپنا دست مبارک رکھ دیتے تو وہ خوشبو میں دوسرے بچوں سے ممتاز ہو جاتا تھا چنانچہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ظہر پڑھیں بڑی تو پھر آپ اپنے اہل خانہ کی طرف نکل پڑے میں بھی آپ کے ساتھ نکلا بچے آپ کے پاس جب آئے تو آپ ان میں سے ہر ایک کے رخسار کو اپنے ہاتھ مبارک سے مسح فرمانے لگے میرے رخسار کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسح لیا پس میں نے آپ کے دست مبارک کی ٹھنڈک یا خوشبو ایسی پائی کے گویا آپ نے اپنا ہاتھ اتار کے صندوق وقت بچا سے نکالا تھا حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مصافحہ کرتا تھا یا میرا آپ کے بدن سے مس کرتا تھا تو میں اس کا اثر بعدازاں اپنے ہاتھ میں پاتا اور میرا ہاتھ کستوری سے زیادہ خوشبودار ہوتا حضرت زید بن اسود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک میری طرف بڑھایا کیا دیکھتا ہوں کہ وہ برف سے ٹھنڈا اور کستوری سے زیادہ خوشبودار ہے آپ کا ہاتھ مبارک مبارک وہ ہاتھ تھا کہ ایک مشت خاک کفار پر پھینک دیں اور ان کو شکست ہو گی شیخ وہی دست کرم تھا کہ کوئی سائل آپ کے دروازے سے محروم نہیں پھر یہ وہی دست شفا تھا کہ جس کے محافظ چھونے سے وہ بیماریاں دور ہو جاتی ہیں جن کے علاج سے اتباع ڈاکٹر عاجز ہیں اسی مبارک ہاتھ میں انگریزوں نے کلمہ شہادت پڑھا اسی مبارک ہاتھ ہاتھ کے اشارے سے فتح مکہ کے تین سو ساٹھ بت جنگ کے بعد دیگرے منھ کے بل گر پڑے اسی خط مبارک کی ایک انگلی کے اشارے سے چاند دوبارہ ہو گیا اسی مبارک ہاتھ کی انگلی سے متعدد دفعہ چشمے کی طرح پانی جاری ہوا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک کی کچھ احادیث پیش کرنا چاہوں گا حضرت عبید بن عمال کے چہرے پر داد تھا تھا جس سے چہرے کا رنگ بدل چکا تھا ان کا داد کا کوئی نشان ہی باقی نہیں رہا ایک عورت اپنے لڑکے کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں لائیں اور جنون ہے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا لڑکے کو الٹی ہوئی اور اس میں سے ایک کالا کتے کا پلا نکلا اور فور آرام ہو گیا جنگ احد میں حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ کی آنکھ کو صدمہ پہنچا اور وہ ڈیلا رخسار پر آپڑا تجویز ہوئی کے کاٹ دیا جائے حضور سے دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کرو اور انہیں بلا کر اپنے دست مبارک سے ڈیلیٹ کو اسی جگہ پر رکھ دیا آنکھ فوراً درست ہوگی کہ کبھی کچھ آنکھ میں لگا ہی نہیں تھا حضرت عبداللہ بن عتیک جب ابو رافع یہودی کو قتل کر کے اس کے گھر سے نکلے تو زینے سے گھر کر ان کی ساکھ ٹوٹ گئی انہوں نے اپنے امام سے باندھ لیں جب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ پاؤں پھیلاؤ حضرت عبداللہ نے پاؤں پھیلایا پھیرا اسی وقت ایسی تندرست ہوگئی کہ کبھی وہ ٹوٹی ہی نہیں تھی حضرت ای بن سعید چوہدری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ یا حبیب اللہ اللہ میرے چہرے پر اپنا دست مبارک سے دیجئے اور دعائیں برکت فرمائے حضور انور شاہ بنی آدم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا ہی کیا اسی وقت حضرت زید کا چہرہ تروتازہ اور نورانی رہا کرتا تھا اس کے بعد ہروقت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن عذرۃ عبداللہتھا اس پر باقی حصّے سے پہلے بال اگ آتے تھے میں ہوتے تو قدمی سب سے بلند نظر آتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیوفائی و بارک وسلم نے حضرت قتادہ بن ملحان ایسی کے چہرے پر اپنا دست مبارک پھیرا جب وہ عمر رسیدہ ہو گئے تو ان کے تمام اعضاء پر کنگھی کے حصار کے آثار نمایاں تھے مگر چہرہ بدستور تروتازہ تھا اسی طرح حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیس بن زید بن حباب جذامی کے سر پر اپنا دست مبارک پھیرا اور دعائے برکت فرمائی حضرت اس نے سو برس کی عمر میں وفات پائی ان کے سر کے بال سفید ہوگئے تھے مگر جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک رکھا تھا وہاں کے بال سیاہ ہی تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو راستے میں ایک غلام چرواہے سے اپنے دور طلب کیا اس نے جواب دیا کہ میرے پاس کوئی دودھ دینے والی بکری نہیں ہے آپ نے ایک بکری پکڑ لی اور اس کے حسن پر اپنا دست مبارک پھیرا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اس کا دودھ وہ ہے اور دونوں نے پیا غلام میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ آپ کون ہے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دودھ دھویا جیسے کہ آپ نے پہلے بھی سنا ہوگا حضرت مدلوقۃ فزاری کا بیان ہے کہ میرے آقا آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں مجھے لے گیا میں اسلام لایا تو حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی وسلم نے کیا تھا سیاہی رہا باقی تمام سر سفید ہو گیا

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *